43

پاکستان میں ذیابیطس کی بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے، لوگ احتیاط کریں – ماہرین

مختلف وجوہات، جیسے غیر صحتمندانہ طرززندگی، بنا احتیاط کے، کھایا جانے والا کھانا، اور پریشانیوں، ذہنی دباؤ کی وجہ سے، پاکستان میں ذیابیطس کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، یہ شرح باقی ممالک سے کافی زیادہ ہے.
ڈبلیو ایچ او، جو کہ صحت کی عالمی تنظیم ہے، کی طرف سے 1994 سے 1998 کے درمیان سروے کیے گئے تھے، اور اس وقت ایک اندازے کے مطابق تقریباََ 70 لاکھ لوگ پاکستان میں ایسے تھے، جو ذیابیطس کے مرٰیض تھے. اس کے بعد ڈبلو ایچ او نے تو کوئی سروے نہیں کیا، تاہم ماہرین کے مطابق اس وقت 3 سے 4 کروڑ لوگ اس بیماری کا شکار ہیں جو کہ کل آبادی کا 20 فیصد بنتا ہے. تاہم، معالجین کے مطابق، یہ تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہے.
پی آئی ٹی آف میڈیکل سائنس (پمز) کے ڈاکٹر جمال کا کہنا تھا کہ، ان کے ادارے کا ہر تیسرا بندا اس بیماری کا شکار ہے، اور ان کی طرف سے کئے گئے ایک سروے رپورٹ کے مطابق، راولپنڈی کے گردونواح میں 32 فیصد آبادی اس بیماری کا شکار ہے. ڈاکٹر جمال کا مزید کہنا تھا کہ، ذیابیطس کی وجہ سے زیادہ لوگ گردے فیل ہونے، ہاتھ پاؤن سے محرومی، فالج اور اندھے پن کی بڑی وجہ ہے.
ڈاکٹر جمال نے ذیابیطس کی احتیاط بتاتے ہوئے کہا کہ، ادویات، پرہیز اور ورزش سے اس بیماری کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے. انھوں نے زور دیا کہ، خون میں شکر کی مقدار کو کنٹرول رکھنے، اور ورزش کرنا اپنی روٹین بنائی جائے.

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں