44

دودھ میں‌ملاوٹ سے بچیئے، ایک سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کا قانون منظور ہوگیا

زبیر خان کی سربراہی میں اجلاس، لائیو سٹاک قائمہ کمیٹی کا فیصلہ، ملاوٹ روکنے کے لیے انپکٹر رکھیں جائیں گے، اور لیبارٹریاں بھی قائم ہوںگی. جانوروں کی خوراک بھی ریگولیٹ ہوگی، پہلے مرحلے میں سزا کم ہوگی.
پنجاب اسمبلی میں ایک بل پیش کیا گیا، جس کی رو سو دی پنجاب اینمل فیڈ سٹف اینڈ کمپاؤنڈ فیڈ ایکٹ بنایا جائے، جس کے تحت شہریوں کو خالص دودھ کی فراہمی کی جائے اور جانوروں کی خوراک کو بھی ریگولیٹ کیا جائے. زبیر خان کی سربراہی میں ایک اجلاس ہوا، جس میں اس ایکٹ کو منطور کر لیا گیا، اور اب اس قانون کو بعد ملاوٹ کرنے والوں کو جرمانہ و سزا ہو سکے گی. کمیٹی کو اجلاس میں تفصیلی غوروضوض کرنے کو بعد فیصلہ کیا کہ، پہلے مرحلے میں سزا 6ماہ قید اور دو لاکھ جرمانہ ہوگا، تاہم جرمانہ کی کم از کم رقم 50 ہزار ہوگی.
دودھ کی ملاوٹ چیک کرنے کے لیے لیبارٹریاں بنائی جائئں گی، اور انسپکٹر بھی رکھیں جائیں گے.
پہلی مرتبہ پکڑے جانے پر سزا کم ہوگی تاہم دوسری دفعہ اس جرم پر ایک سال قید اور 5 لاکھ تک جرمانہ ہو سکتا ہے. قائمہ کمیٹی نے اس بل کی منظوری دے دی اور بل حکومت کو بھیج دیا ہے، پنجاب اسمبلی میں آئندہ اجلاس کے بعد یہ بل ایکٹ کی صورت اختیار کر جائے گا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں