52

موت کا سبب بننے والے دورے کی بڑی وجہ “مایوسی” ہے

11 سال سے جاری ایک سروے سے ثابت ہوا ہے کہ، بددل اور مایوس افراد کو دل کی بیماریوں کی زیادہ شکایت ہوتی ہے. یہ سروے فن لینڈ کے ایک شہر بیلسنکی میں کیا گیا. سروے کے نتیجے نے انکشاف کیا کہ، جو لوگ بے دلی سے کام کرتے ہیں اور ہر شے میں مایوسی ڈھونڈتے رہتے ہیں ان کو دل کو زیادہ عارضے لاحق ہوتے ہیں اوران کی نسبت زندہ دل لوگوں کی دل کی بیماریاں بہت کم ہوتی ہیں. اسی لیے بے دل اور مایوس لوگوں کی موت کی شرح بھی زندہ دل لوگوں‌سے زیادہ ہوتی ہے. دل کی بیماریوں کے علاوہ، ذیابیطس اور بلڈ پریشر کی بیماریاں بھی واضح طور پر مایوس لوگوں کو ہی گھیرتی ہیں.
11 برس کے اس سروے میں‌121 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر لوگ مایوسی میں‌گھرے رہتے تھے. اس سروے اور تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ مایوس اور بد دل لوگ اپنی زندگی کی کیئر بھی نہیں کرتے اور نا ہی اپنا لائف سٹائل بہتر کرتے ہیں. کیوں کے یہ لوگ نا تو اپنے مستقبل کے بارے میں سوچتے ہیں اور نا ہی اچھے واقعات اور اچھی باتوں‌سے خوشی انجوائے کرتے ہیں. اس لیے ان کےکیئر نا کرنے سے ان کے دل پر اثر پڑتا ہے. اور ان کا جسم بھی بیماریوں کی آماجگاہ بن جاتا ہے.

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں