4

بلوچستان کے شہر گوادر کے دو علاقوں میں فائرنگ، 10 مزدور ہلاک-بی بی سی


تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر گوادر میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد نے تعمیراتی کام کرنے والے مزدوروں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کم از کم 10 مزدور ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔

کمشنر مکران ڈویژن بشیر بنگلزئی کے مطابق فائرنگ کا یہ واقعہ گوادر کے علاقے پشکان اور گنت میں پیش آیا۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری کے حوالے سے پاکستان کے اہم ترین صوبے بلوچستان کے شہرگوادر میں فائرنگ کا واقعے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیرداخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہلاک ہونے والے مزدوروں کی شناخت کا سلسہ جاری ہے۔

لیویز حکام نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے 10 مزدوروں کا تعلق سندھ کے علاقے نوشہرو فیروز سے ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ مزدور ایک سڑک کی تعمیر میں مصروف تھے جب مسلح افراد نے انھیں فائرنگ کا نشانہ بنایا۔

ہلاک ہونے والے مزدوروں کی لاشوں اور زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال گوادر منتقل کیا گیا ہے۔

لیویز حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے بعد حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

میں نے بلوچی بولی تو مجھے کہا سائیڈ پر ہو جاؤ

گنت میں کام کرنے والے ایک مزدور اور عینی شاہد قادر بخش نے بی بی سی کو بتایا ’دو حملہ آور پشکان کی جانب سے آئے اور میں اٹھ کر ان کی جانب گیا اور ان سے کہا کہ کہ مزدور سارے سندھ سے ہیں۔ میں نے جب بلوچی میں ان کو یہ کہا تو انھوں نے مجھے کہا کہ سائیڈ پر ہو جاؤ۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ان کو سائیڈ پر کرنے کے بعد ان مزدوروں کا اکٹھا کیا اور فائرنگ کر دی۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ ’ہم کو یہاں پر کام کرتے ہوئے ڈیڑھ سال ہو گئے ہیں۔ ڈیڑھ سال سے کام کر رہا ہوں نہ تو پہلے کبھی سکیورٹی تھی اور نہ ہی آج تھی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

واضح رہے کہ گوادر میں یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب وزیراعظم پاکستان نواز شریف چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے ہمراہ چین کے دورے پر ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز بھی بلوچستان کے شہر مستونگ میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ عبدالغفور حیدری کے قافلے کے قریب دھماکا ہوا تھا جس کے نتیجے میں 25 افراد ہلاک جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما سمیت 42 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

پاکستان اور چین کے درمیان جاری چائنا پاکستان اقتصادی راہدری میں گوادر کا انتہاہی اہم کردار ہے کیوں کہ چین سے آنے والا تمام سامان گوادر کی بندرگاہ کے ذریعے ہی وسطی ایشیائی ممالک اور یورپ تک پہنچایا جائے گا۔

View Source

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں