3

’معاملہ صرف سرحد کی کشیدگی کا نہیں‘-بی بی سی


عبداللہ فاروقی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، چمن
چمن سرحدتصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سرحد بند ہونے کی وجہ سے دونوں ملکوں کے شہریوں کو یکساں مشکلات کا سامنا ہے

پاکستان کے افغانستان سے متصل سرحدی علاقے چمن میں جمعے کے روز بھی سرحد مکمل طور پر بند رہی اور سرحد کے دونوں اطراف آمد و رفت معطل رہی۔

جمعے کے روز بھی تاجر، مزدوری کے غرض سے آنے جانے والے اور مریض سرحد کے دونوں اطراف پھنسے رہے اور انتظامیہ کی عدم توجہ کا شکوہ کرتے رہے۔

سکیورٹی کے اقدامات کے تحت چمن اُس سے آس پاس کے علاقوں میں موبائل تھری جی اور فور جی کی سہولت بھی معطل رہی۔

٭ ’دیکھو یہ تین دن پرانی روٹی ہے‘

آٹھ سالہ زینت کو کینسر کا موذی مرض لاحق ہے۔ یہ چمن کی سرحد پر اپنے والد نصیر احمد کے ساتھ منہ پر ماسک پہنے بیٹھی ہیں۔

زینت کے والد نے بی بی سی کو بتایا: 'ڈاکٹر نے بیٹی کو تیز ہوا اور گرد سے بچانے کا کہا ہے لیکن یہاں تو گرد کے طوفان چل رہےہیں۔'

سعید خان بھی افغان شہری ہیں۔ اِن کی 12 سالہ بیٹی کو ہیپاٹائٹس ہے وہ کراچی میں علاج مکمل کرکے واپس جانا چاہتے ہیں لیکن ایسا فی الحال ممکن نہیں۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کے روزانہ 15 سے 20 ہزار مزدور سرحد پار کر کے افغانستان جاتے ہیں اور وہاں کام کاج کر کے واپس پاکستان آتے ہیں۔

ولی محمد پاکستانی شہری ہیں اور افغانستان جانے والے کنٹینر کے ڈرائیور ہیں۔ وہ آج بھی مایوس بیٹھے اور اُنھیں عنقریب سرحد کا معاملہ حل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

اُن کا کہنا ہے: 'گاڑی یہاں سے کسٹم سے کلیئر ہو کر وہاں کھڑی تھی ہم اپنے گھر واپس جانے لگے تو سرحد بند ہو گئی۔'

آج افغانستان اور پاکستان کے درمیان چمن سرحد پر ہونے والی جھڑپ کو آٹھ دن ہو گئے ہیں لیکن علاقے میں خوف و ہراس اب بھی قائم ہے۔ سکیورٹی فورسز نے آج صرف ان افغان شہریوں کو افغانستان جانے کی اجازت دی ہے جن کے پاس پاسپورٹ موجود ہیں۔ سرحد کے دونوں جانب رابطے صرف ٹیلی فون پر ہو رہے ہیں کیونکہ چمن کے علاقے میں تھری جی اور فور جی کو بند ہوئے آج ایک ماہ سے زیادہ ہو گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سرحدی جھڑپ کے آٹھ دن بعد بھی بابِ دوستی بند ہے

پاک افغان جھڑپ کے دوران چمن کے علاقے کلی لقمان اور کلی جہانگیر سب سے زیادہ متاثر ہوئے تھے۔ یہ دونوں علاقے مکینوں سے خالی کرا لیے گئے ہیں۔

کلی لقمان کے سربراہ عبدالجبار اچکزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کی ملاقات فرنٹیئر کور اور فوج کے اعلیٰ افسران سے ہوئی ہے اور اُنھیں اگلے ایک دو دن میں علاقے میں جانے کی اجازت ملنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

اُنھوں نے بی بی سی کو بتایا: 'کرنل صاحب سے بات ہوئی ہے۔ کہہ رہے ہیں کہ ابھی خطرہ ہے لیکن انشا اللہ ایک دو دن میں آپ کو گھروں کو جانےکی اجازت مل جائے گی۔'

عبدالجبار اچکزئی نے بتایا کہ یہ علاقہ قبائلی ہے اور یہاں سمگلنگ عام ہے۔ اُن کے علاقے میں بھی سمگلنگ کا سامان موجود ہے۔

آج کلی لقمان اور کلی جہانگیر کے مشران کی ایف سی کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقات ہوئی ہے۔

سرحدی اُمور کے ماہرین اور سابق فوجی افسران کا کہناہے کہ معاملہ صرف سرحد کی کشیدگی کا نہیں بلکہ اِس سے زیادہ اُس کالے دھن کا ہے جو سرحد کے دونوں اطراف کی جانے والی سمگلنگ سے حاصل ہوتا ہے۔

View Source

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں