25

انڈیا کے لیے ایک اور پیغام، ’سی پیک خطے کے تمام ملکوں کے لیے ہے‘-بی بی سی


سی پیکتصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف بیلٹ اینڈ روڈ فورم سے خطاب کرتے ہوئے

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے بیجنگ میں ون بیلٹ ون روڈ (اوبور) کے تحت ہونے والے سربراہی اجلاس میں انڈیا کے لیے ایک واضح پیغام میں کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا منصوبہ خطے کے تمام ممالک کے لیے ہے اور اس منصوبے پر سیاست نہیں کی جانی چاہیے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف نے انڈیا کا نام لیے بغیر کہا کہ 'میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ سی پیک کا منصوبہ ایک اقتصادی منصوبہ ہے جس میں سرحدوں کی کوئی قید نہیں ہے اور کوئی بھی ملک اس میں شامل ہو سکتا ہے لیکن اس کے ضروری ہے کہ اس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔'

ایشیائی اور افریقی ممالک کے ملاپ کی کوشش

سی پیک: گیم چینجر یا ہوائی قلعہ؟

'عام خوشحالی کے تعاون' کی سوچ سے ہونے والی اس کانفرنس میں وزیر اعظم نے زور دیا کہ ’ضرورت اس امر کی ہے کہ خطے کہ ممالک آپس کے اختلافات کو گفت و شنید کے ذریعے سلجھا کر پر امن رشتہ قائم کریں جس میں تمام ملکوں کے تعلقات میں کوئی جھول نہ ہو'۔

یاد رہے کہ اس عالمی سطح کی کانفرنس میں انڈیا شریک نہیں ہے جبکہ جاپان اور ویتنام نے اعلی سطحی وفد اس سربراہی اجلاس میں اپنی نمائندگی کے لیے بھیجے ہیں۔

امن کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ترقی صرف اسی وقت ممکن ہے جب امن قائم ہو اور امن قائم کرنے کے لیے معاشی ترقی سے اچھا کوئی طریقہ نہیں ہے، خاص طور پر وہ جو خطے کے تمام ممالک کے تعاون سے قائم ہو۔

نواز شریف نے مزید کہا کہ 'ون بیلٹ ون روڈ (اوبور) کی مدد سے ہم دہشت گردی اور انتہا پسندی کا بھی خاتمہ کر سکتے ہیں کیونکہ جس سمت میں اوبور جا رہا ہے اس کی مدد سے ہم آہنگی، رواداری اور مختلف ثقافتوں کو پھیلا سکتے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چینی وزیر اعظم لی کیچیانگ اپنے پاکستانی ہم منصب میاں نواز شریف کے ہمراہ

انھوں نے کہا 'اوبور کا منصوبہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جغرافیائی معاشیات، جغرافیائی سیاست سے زیادہ ضروری اور فائدہ مند ہے جس کی مدد سے ملکوں کے مابین تصادم کے بجائے تعاون کو فروغ ملے گا۔'

انھوں نے سی پیک منصوبے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ سی پیک کا منصوبہ اوبور کے اہم ترین منصوبوں میں سے ہے جس کی مدد سے پاکستانی تجارت کے لیے راستہ اور منزل دونوں بن سکتا ہے۔

چین سے دوستی پر اظہار تفخر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات بہت قریبی ہیں اور 'چین پاکستان کا بہترین دوست اور پر اعتماد اتحادی ملک' ہے۔

بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹیو پر مبنی اس کانفرنس میں 29 ممالک کے سربراہان شامل ہیں اور اس کے علاوہ 1500 مندوبین بھی اس میں شرکت کرنے کے لیے بیجنگ آئے ہیں۔

View Source

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں