23

زرداری خیبرپختونخوا میں، کیا ناراض کارکن مان جائیں گے-بی بی سی


عزیز اللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
تصویر کے کاپی رائٹ Paula Bronstein
Image caption آصف علی زرداری ایک طویل عرصے کے بعد صوبہ خیبرپختونوا میں متحرک ہوئے ہیں

پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ اور سابق صدر آصف علی زرداری خیبر پختونخوا میں جماعت کو ایک مرتبہ پھر اپنا کھویا ہوا مقام دلوانے کے لیے پشاور پہنچے ہیں جہاں وہ کارکنوں اور ووٹرز کو متحد کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں لیکن دوسری جانب جماعت کے اہم رہنما ناراض ہوگئے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے آئندہ انتخابات کے لیے خیبر پختونخوا میں تیاریاں شروع کر دی ہیں اور یہ آصف علی زرداری کا خیبر پختونخوا کادوسرا دورہ ہے۔ وہ آج صوبے کے مختلف اضلاع کے پارٹی عہدیداروں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں جن میں ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں کے عہدیدار بھی شامل ہیں۔

آصف علی زرادری نے آج اتوارکو کارکنوں سے مختصر خطاب میں سال دو ہزار تیرہ کے انتخابات کو 'آر اوز' کے انتخابات قرار دیا اور کہا کہ اس مرتبہ ایسا نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ اب ان کے ووٹر صرف ووٹ نہیں ڈالیں گے بلکہ آخر تک بیٹھے رہیں گے اور ہر پولنگ سٹیشن کا نتیجہ لے کر جائیں گے۔

آصف زرداری نے موجودہ حکومت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس وقت ملک میں ایک مغل بادشاہ کی حکومت ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمرانوں سے تین سرحدیں نہیں سنبھالی جا رہیں جبکہ ان کے دور میں افغانستان اور ایران کے ساتھ تعلاقات بہتر تھے صرف کشمیر کی حد تک مسئلہ پایا جاتا تھا۔

آصف زرداری پشاور میں تین سے چار روز تک قیام کریں گے۔

آصف زرداری کے چیلنج میں پیپلز پارٹی کے ناراض رہنماوں کو مناناشامل ہے۔ پارٹی کے اہم رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی نور عالم خان جماعت کی قیادت سے ناراض ہیں۔ وہ پشاور کے حلقہ این اے تین سے رکن قومی اسمبلی رہ چکے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت میں کرپٹ عناصر موجود ہیں اور انھیں آگے لایا جا رہا ہے جبکہ وہ کرپشن کے سخت خلاف ہیں اسی لیے انھوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنے حقلے کے لوگوں کے پاس جائیں گے اور پھر وہ جو فیصلہ کریں گے اسی کے مطابق وہ اپنا لائحہ عمل اختیار کریں گے ۔

ان سے جب پوچھا کہ کیا وہ کسی دوسری جماعت میں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں انھوں نے خود اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ نور عالم خان کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی اور دیگر جماعتوں میں بڑی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جو کرپشن کے سخت خلاف ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ملک سے کرپشن ختم ہو اور ایسے عناصر سے دور رہا جائے جو کرپشن کر کے آگے آتے ہیں۔

نور عالم خان کے علاوہ بھی صوبے میں جماعت کے اہم عہدیدار اور کارکن ہیں جو پارٹی سے الگ تھلگ نظر آتے ہیں۔ گزشتہ ماہ آصف زرداری کے مردان اور مالاکنڈ کے جلسوں میں بھی ایسے اہم رہنما جو صوبائی سطح پر پارٹی کے اہم عہدیدار رہ چکے ہیں کوئی فعال کردار ادا کرتے نظر نہیں آئے۔

مبصرین کے بقول پیپلز پارٹی ماضی کی طرح کوئی عوامی طاقت کا بڑا مظاہرہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی تھی۔

آصف علی زرداری گزشتہ روز عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما حاجی محد عدیل مرحوم کی رہائش گاہ گئے جہاں ان کے لیے فاتحہ خوانی کی ہے۔

View Source

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں