12

خواتین ملازمین کے ساتھ ناروا سلوک، عرب شہزادیوں پر مقدمہ-بی بی سی


مقدمہ، یو اے ایتصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مقدمے کا آغاز سنہ 2008 میں ہوا تھا۔

برسلز میں آٹھ عرب شہزادیوں پر اپنی ملازماؤں کے ساتھ ناروا سلوک کرنے پر مقدمہ چل رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق 2008 میں شیخہ حمادہ النہیان اور ان کی بیٹیوں نے برسلز میں ایک پرتعیش ہوٹل کی ایک منزل آٹھ ماہ کے لیے کرائے پر لی تھی۔

جب شہزادیاں متحدہ عرب امارات سے برسلز میں آئیں تو ان کے ہمراہ 20 ملازمائیں تھیں جن کے بارے میں ان پر الزام ہے کہ ان کے ساتھ غلاموں والا سلوک برتا گیا۔

درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ انھیں ہوٹل سے نکلنے کی اجازت نہیں تھی اور انھیں مجبور کیا جاتا تھا کہ وہ شہزادیوں کا بچا ہوا کھانا کھائیں۔

شہزادیوں اور ان کے انڈین نوکر پر یہ مقدمہ ان کی غیر موجودگی میں چل رہا ہے۔

اگر ان پر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو انھیں لاکھوں یورو ہرجانے کے علاوہ قید کی سزا ہو سکتی ہے، لیکن انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ متحدہ عرب امارات والوں کے لیے غیر معمولی ہے کہ وہ سلاخوں کے پیچھے وقت گزاریں۔

شہزادیوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

یہ معاملہ تب منظر عام پر آیا جب ان ملازماؤں میں سے ایک ہوٹل چھوڑ کر فرار ہوئی۔

ایک ملازمہ نے بتایا کہ انھیں تین دن تک خوراک کے بغیر رکھا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شہزادیاں یو اے ای کے صدر شیخ خلفیہ بن زید کی رشتے دار ہیں۔

غیر انسانی سلوک کے علاوہ شہزادیوں پر یہ الزام بھی ہے کہ انھوں نے اپنے ملازمین کے لیے درست ویزا اور ورک پرمٹ نہیں بنوایا تھا اور نہ ہی وہ انھیں صحیح تنخواہ دیتی تھیں۔

اس مقدمے کو نو سال گزر گئے ہیں تاہم اس دوران میں وکیل صفائی نے اس نکتے کو بھی چیلینج کیا ہے کہ کیا پولیس کو شہزادیوں کے ہوٹل کے کمروں میں جانے کی قانونی اجازت حاصل تھی۔

اس کیس میں شہزادیوں نے تین وکیلوں کی خدمات حاصل کی ہیں جن میں سے دو بذاتِ خود بیلجیئم گئے اور انھوں نے اس کیس کے طریقہ کار کو چیلینج کیا۔

View Source

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں