12

عدالت جہاں صرف ریاستوں کی رسائی ہے-بی بی سی


تصویر کے کاپی رائٹ Justice Hub

انڈین حکومت نے اپنے شہری کلبھوشن جادھو کو پاکستان میں دہشتگردی کے الزامات کے تحت سزائے موت سنائے جانے کے فیصلے پر عملدرآمد رکوانے کے لیے عالمی عدالت انصاف کا دروازہ کھٹکٹایا ہے۔

عالمی عدالت انصاف نے بھارت کی جانب سے دائر ہونے والی درخواست کی تصدیق کرتے ہوئے 15 مئی کو اس معاملے کی ابتدائی سماعت کا اعلان کیا ہے۔

عالمی عدالت انصاف کیا ہے اور یہ کس طرح کام کرتی ہے؟

عالمی عدالت انصاف کیا ہے؟

یہ عدالت اقوام متحدہ کا حصہ ہے جو اقوام متحدہ کے چارٹر کے ذریعے قائم ہوئی اور اس نے نیدرلینڈز کے شہر دا ہیگ میں واقع پیس پیلس میں 1946 میں کام شروع کیا۔

اس عدالت کے 15 جج صاحبان ہیں جو ایک طرف بین الاقوامی قوانین کے تحت ریاستوں کے باہمی قانونی مسائل کو حل کرتے ہیں اور دوسری جانب اقوام متحدہ یا دیگر مخصوص ایجنسیوں کی جانب سے پیش کیے گئے مسائل پر قانونی رائے دیتے ہیں۔

عدالت کی سرکاری زبانیں انگریزی اور فرانسیسی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ UN

عدالت سے کون رجوع کر سکتا ہے؟

عالمی عدالت انصاف میں صرف ریاستیں مقدمہ لا سکتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اقوام متحدہ کی 192 رکن ریاستیں ہی مقدمہ اس عدالت کے سامنے لا سکتی ہیں۔

افراد، غیر سرکاری تنظیموں، کارپوریشنز یا دیگر نجی تنظیموں کی جانب سے دائر کیے جانے والے مقدموں کو سننا عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔

یہ عدالت ان پر نہ تو قانونی رائے دے سکتی ہے اور نہ ہی ریاستی حکام کے ساتھ ڈیل کرنے کے لیے مدد فراہم کر سکتی ہے۔

تاہم ایک ریاست ایک فرد کا کیس لے کر دوسری ریاست پر مقدمہ اس عدالت میں لا سکتی ہے اور ایسی صورت میں یہ مقدمہ دو ریاستوں کے درمیان ہو جاتا ہے۔

ریاستوں کے درمیان کچھ مسائل کو عدالت تسلیم نہیں کیوں نہیں کرتی؟

عدالت صرف اس وقت مقدمہ سنتی ہے جب ایک یا زیادہ ریاستیں درخواست کریں۔

یہ خود کسی مسئلے کے حل کے لیے قدم نہیں اٹھا سکتی۔

اس عدالت کے قیام کی شرائط کے مطابق اس کو تفتیش اور خود مختار ریاستوں کے اقدام پر سماعت کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

جو ریاستیں عدالت سے رجوع کرتی ہیں ان کو اس عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ MUNPlanet

کیا عدالتی حکم پر عملدرآمد لازمی ہے؟

ریاستوں کے درمیان مسئلے پر عدالت کے فیصلے یا اس کے کسی چیمبر کے فیصلے پر اقوام متحدہ کی شق 94 کے تحت عملدرآمد لازمی ہے۔

عدالتی فیصلے حتمی ہوتے ہیں اور ان کے خلاف اپیل نہیں کی جا سکتی۔

اگر کوئی فریق فیصلے کے سکوپ یا مطلب کو چیلنج کرتا ہے تو اس کی تشریح کی جاسکتی ہے۔

اگر کوئی ایسے حقائق سامنے آتے ہیں جو پہلے عدالت میں پیش نہیں کیے گئے اور جو فیصلے کے لیے بہت اہم ہیں تو دونوں فریقین میں سے کوئی بھی فیصلے پر نظر ثانی کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔

View Source

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں