13

شمالی کوریا کے نئے میزائل ٹیسٹ پر غصے کا اظہار-بی بی سی


شمالی کوریاتصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شمالی کوریا نے حالیہ مہینوں میں کئی بار میزائل کے تجربات کیے ہیں اور چھٹا جوہری تجربہ کرنے کی بھی دھمکی دے رکھی ہے

جنوبی کوریا کی فوج کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے مغربی ساحل کے قریب ایک بیلسٹک میزائل داغا ہے۔

خیال رہے کہ میزائل کا یہ تجربہ جنوبی کوریا میں نئے صدر کے برسراقتدار آنے کے چند دن بعد کیا گیا ہے اور اس کی وجہ سے نئے صدر مون جے ان پر سخت دباؤ ہوگا کیونکہ انھوں نے شمالی کوریا کے ساتھ بہتر رابطے کے تحت انتخابی مہم چلائی تھی۔

اپنے بیان میں جنوبی کوریا کے نئے صدر نے کہا کہ یہ حملہ اشتعال انگیز اقدام ہے۔

شمالی کوریا کے ساتھ بڑی جنگ بھی چھڑ سکتی ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

امریکہ کا شمالی کوریا پر سخت پابندیاں عائد کرنے پر غور

ادھر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ شمالی کوریا پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں۔

یہ میزائل شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ کے شمال مغربی شہر کسونگ کے قریب لانچ کیا گیا اور یہ سینکڑوں میل کے سفر کے بعد بحر جاپان میں گرا۔

شمالی کوریا نے رواں برس سلسلہ وار میزائل ٹیسٹ کیے ہیں جس پر عالمی پیمانے پر خدشات نے سر ابھارا اور امریکہ کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

شمالی کوریا نے گذشتہ ماہ بھی میزائل کے دو تجربات کیے تھے جو ناکام رہے تھے۔

دوسری جانب جنوبی کوریا اور جاپان نے شمالی کوریا کی جانب سے لانچ کیے جانے والے میزائل کی مذمت کی ہے۔

جنوبی کوریا کی خبر رساں ایجنسی ونہاپ کے مطابق ملک کے نئے صدر مون جے اُن نے اس صورتِ حال کے تناظر میں اپنی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے اور اسے اشتعال انگیزی سے تعبیر کیا ہے۔

ان کے ترجمان کے مطابق: صدر نے کہا ہے کہ جنوبی کوریا شمالی کوریا کے ساتھ بات چیت کے امکانات کا حامی ہے لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب شمالی کوریا اپنے رویے میں تبدیلی لائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شمالی کوریا نے حالیہ مہینوں میں کئی بار میزائل کے تجربات کیے ہیں اور اس نے چھٹے جوہری تجربے کی بھی دھمکی دے رکھی ہے

جنوبی کوریا کی فوج نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ یہ میزائل 'نامعلوم پروجیکٹ ٹائل' کسونگ سے داغا گیا تاہم اس نے مزید تفصیل نہیں بتائی۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے خیال میں 'روس بھی اس سے خوش نہیں ہوا ہوگا' کیونکہ یہ میزائل روسی سرزمین سے زیادہ دور نہیں گرا ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ مزید میزائل لانچ کرنے کا نتیجہ شمالی کوریا کے خلاف پابندیوں میں مزید سختی ہوگی۔

چین جو کہ شمالی کوریا کا واحد بڑا اتحادی ہے اس نے حالیہ تجربات کے تناظر میں شمالی کوریا کو نظم و ضبط سے کام لینے کے لیے کہا ہے۔

گذشتہ ماہ ‌شمالی کوریا کا ایک میزائل تجربہ مبینہ طور پر ناکام ہوا تھا جس کے بارے میں امریکہ اور جنوبی کوریا کا کہنا تھا کہ میزائل لانچ کے چند سیکنڈ بعد ہی پھٹ گیا۔

شمالی کوریا نے حالیہ مہینوں میں کئی بار میزائل کے تجربات کیے ہیں اور چھٹا جوہری تجربہ کرنے کی بھی دھمکی دے رکھی ہے۔

حالیہ ہفتوں کے دوران شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان شدید بیان بازی کے بعد کوریائی جزیرہ نما میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ نے شمالی کوریا پر گذشتہ سال مزید پابندیاں عائد کی تھیں۔

یہ پابندیاں شمالی کوریا کی جانب سے چھ جنوری 2016 کو کیے گئے جوہری تجربے اور سات فروری کے سیٹلائٹ لانچ کے بعد عائد کی گئی تھیں۔'

View Source

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں