heart of asia conference 28

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت نہ کرتے تو بھارت کو پاکستان پر تنقید کرنے کا موقع مل جاتا

سرتاج عزیز کی نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں کہا کہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت نہ کرتے تو بھارت کو پاکستان پر تنقید کرنے کا موقع مل جاتا، کانفرنس میں شرکت کے ہمارے تین مقاصد تھے، پہلا افغانستان میں امن لایا جائے ،دوسرا بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو کم کرنا ہے اور تیسرا بھارت کو کوئی ایسا موقع نہ ملے کہ وہ کانفرنس میں پاکستان کی شرکت نہ ہونے سے دینا کے سامنے کوئی پروپیگنڈہ کرسکے۔ افغان صدر اشرف غنی کے بیان پر بہت افسوس ہوا، نریندر مودی سے ملاقات کے بعد ان کا لب و لہجہ حیران کن تھا. بھارت مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں سنجیدہ ہی نہیں، برہان وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی میں تیزی آ گئی ہے،نوجوان اپنے حق کے لیے پرامن تحریک کو مزید آگے بڑھا رہے ہیں.سرتاج عزیز نے کہاہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے تمام ممالک کوملکر کام کرنا ہوگا، اگرمقبوضہ کشمیرمیں مسئلہ نہیں تو بھارت نے سات لاکھ فوج کیوں رکھی ہوئی ہے، دورہ بھارت سے مجھے کسی بریک تھرو کی توقع نہیں تھی،دوطرفہ کشیدگی کو کثیرجہتی فورم پراثراندازنہیں ہونے دیناچاہتے.
سرتاج عزیز کی پریس کانفرنس کے بعد حال ہی میں بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی حکومت نے پریس کانفرنس کے بارے میں جواب دیا کہ ہم بہت اچھے میزبان تھے، سرتاج عزیز کے پاس شکایت کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں