9

‘فیس بُک پر یہ تمام چیزیں سوچ سمجھ کر کریں’-آج نیوز

پاکستان میں بہت سے لوگ ان دنوں سوشل میڈیا خصوصاً فیس بُک پر جعلی پروفائلز کے حوالے سے بہت تشویش کا شکار ہیں۔ کچھ اپنے سٹیٹس کو اپ ڈیٹ کر رہے ہیں کہ ان کی یہی پروفائل ہے اور اس کے علاوہ کوئی اور پروفائل نہیں ہے کچھ اپنے پکے مسلمان ہونے اور ختم نبوت پر یقین کے ثبوت پیش کر رہے ہیں۔

مگر ایسا تو مشال خان نے بھی لکھا تھا اور انہیں ہلاک کرنے والے ہجوم اس کو کسی وضاحت کو خاطر میں نہیں لایا کیونکہ ہجوم مارنے سے پہلے اس کے سٹیٹس کو نہیں پڑھتا اور نہ یہ ویریفائی کرے گا کہ آپ کے ایمان کا درجہ کیا ہے۔

مگر آپ فیس بُک یا سوشل میڈیا پر کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں اور کسی کو نامناسب موقع فراہم کرنے سے بچ سکتے ہیں۔

دوست وہی جسے آپ جانتے ہیں

ہمیں روزانہ فرینڈ بنانے کے خواہشمندوں کی جانب سے فرینڈ ریکویسٹ ملتی ہے اور ہم کئی بار انھیں اپنے دوستوں میں شامل بھی کر لیتے ہیں۔ مگر ایسا کرنے سے پہلے اپنے آپ سے یہ سوال ضرور پوچھیں کہ آپ ایک شخص کو اگر نہیں جانتے تو وہ آپ کے فیرنڈ لسٹ میں کیوں ہو؟ اگر آپ پھر بھی موقع دینا چاہتے ہیں تو ایک نظر اس کی پروفائل اور اس پر لکھی گئی پوسٹس پر ضرور ڈال لیں۔

ٹیگنگ کون کر سکتا ہے؟

فیس بُک

اپنی ٹائم لائن پر پوسٹنگ کو کنٹرول کریں

فیس بُک کی سیٹنگ میں جا کر صرف اپنے دوستوں کو ٹیگنگ کی اجازت دیں اور اس میں یہ واضح کریں کہ آپ اسے منظور کریں گے تو آپ کی ٹائم لائن پر نظر آئی گی ورنہ نہیں۔

ٹائم لائن پر دوسروں کی پوسٹس

فیس بُک

آپ کی فیس بُک سیٹنگ میں وہ جگہ جہاں آپ ساری سیٹنگ کو فرینڈز اونلی کر سکتے ہیں

اپنی ٹائم لائن پر اگر آپ سیٹنگ درست طریقے سے رکھیں گے تو کسی کی بھی پوسٹ اس پر نظر آئے گی جسے آپ بآسانی کنٹرول کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے اپنی پروفائل کی سیٹنگ میں ‘ٹائم لائن اور ٹیگنگ’ میں جاکر تمام سیٹنگ میں فرینڈز کر دیں۔ اور ریو پوسٹ کا آپشن منتخب کریں۔ اس کے نتیجے میں صرف آپ کے دوست ہی تمام باتوں سے آگاہ ہوں گے۔ اسی لیے دوستوں کا انتخاب بہت اہم ہے۔

فرینڈز اونلی یعنی صرف دوستوں تک

اپنی ہر پوسٹ اور ری پوسٹ یا شیئرنگ کرتے وقت اس بات کا دھیان رکھیں کہ اسے کس سے شیئر کر رہے ہیں۔ اسے صرف فرینڈز اونلی یعنی صرف دوستوں تک رکھیں۔ فرینڈز کے فرینڈز تک بھی نہیں کیونکہ آپ کو نہیں پتا کہ آپ کے دوست کے دوست کون ہیں۔

چند اہم غور طلب امور

پاکستان میں 28 جولائی 2014 کو گوجرانولہ میں تین احمدی اس لیے ہلاک کیے گئے کیونکہ ان کے خاندان کے ایک فرد نے ایک توہین آمیز پوسٹ پر ‘لعنت’ کا لفظ لکھا جو ان کے دوستوں اور عام پبلک کو بھی اس پوسٹ کے ساتھ نظر آیا۔ ہجوم نے لعنت تو نہیں دیکھی مگر اس توہین آمیز تصویر کی بنیاد پر ایک پوری آبادی میں جلاؤ گھیراؤ کیا۔

اس لیے پاکستان میں جہاں انٹرنیٹ لٹریسی یعنی انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے حوالے سے تعلیم اور آگہی بہت کم ہے احتیاط کا تقاضا ہے کہ اپنے دوستوں کی فہرست اور پوسٹگ کی پروائیویسی کو بہت سنجیدگی سے لیا جائے کہ یہ کون دیکھ سکتا ہے اور کون نہیں۔

اگر آپ کی پروفائل کی کاپی تیار کی گئی ہے یا آپ کو امپرسونیٹ کیا جا رہا ہے تو فوراً فیس بُک کے اور اس پروفائل کو رپورٹ کریں۔ اس معاملے میں اگر اس کا استعمال کر کے کوئی نازیبا کارروائی ہو رہی ہے تو اسے فوراً پولیس میں یا ایف آئی اے کو رپورٹ کریں۔

 بشکریہ: بی بی سی ادرو
View Source

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں