36

امریکا کا نیوکلئیر میزائلوں سے بچاؤ کا نظام اصلی جنگ میں کارآمدنہیں: تحقیق-آج نیوز


امریکی جرنیلوں کا ایک عرصے سے دعوٰی رہا ہے کہ اگر شمالی کوریا یا ایران نے امریکا پر نیوکلئیر حملہ کیا تو ہم اپنے میزائل ڈیفنس سسٹم سے اسے ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

تاہم آزاد سائنسدانوں اور حکومتی تفتیش کاروں نے 40 بلین ڈالرز کے میزائل ڈیفنس سسٹم کی قابلیت پر سوال اٹھا دیا ہے۔

اس حوالے سے پینٹاگون کے میزائل ڈیفنس ایجنسی کے ترجمان کرس جانسن کا کہان اہے کہ سرزمین کو بیلسٹک میزائل کے ممکنہ خطرات سے بچانے کیلئے پینٹاگون پر اعتماد ہے۔ البتہ پروگرام کو شروعاتی دور میں کچھ مشکلات کا سامنا تھا، لیکن ہم نے گذشتہ کئی سالوں میں کچھ اہم سدھار کئے ہیں تاکہ سسٹم اس طرح کام کر سکے جس کیلئے اسے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

مذکورہ میزائل ڈیفنس سسٹم 60 فٹ لمبے اورتین اسٹج والے راکٹس پر مشتمل ہے، جس کے ذریعے دشمن کے میزائل کو ہوا میں ہی تباہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ بالکل گولی سے گولی کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔

میزائل ڈیفنس ایجنسی کے مطابق آپریشن میں 36 انٹرسیپٹر میزائل ہیں جن میں سے 4 ویڈن برگ فضائیہ کے بیس میں اور 32 ایف ٹی گریلی الاسکا میں نصب کئئے گئے ہیں۔ مزیدآٹھ میزائل رواں سال کےآخر تک سسٹم میں شامل کئے جائیں گے۔

شمالی کوریا اور ایران سے نزدیک ہونے کی وجہ سے میزائلوں کو الاسکا اور کیلی فورنیا کے مغربی ساحلوں کے قریب انسٹال کیا گیا ہے، اتکہ وہاں سے آنے والے میزائلوں کو آسانی سے تباہ کیا جاسکے۔ جبکہ کانگریس مشرقی ساحلوں پر بھی انسٹالیشن کیلئے زور دے رہی ہے۔

امریکی انٹیلی جنس اداروں کا ماننا ہے کہ فی الحال شمالی کوریا اس قابل نہیں کہ وہ امریکا پر نیوکلئیر میزائلوں سے حملہ کرسکے، لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ابھی تک سسٹم کی قابلیت کا کامیاب مظاہرہ نہیں کیا گیا ہے۔

 گذشتہ سال کانگریس کے تفتیشی ادارے ‘امریکی احتسابی دفتر’ نے نتیجہ اخذ کیا کہ میزائل ڈیفنس سسٹم کو چلانے والی ایجینسی نے فلائٹ ٹیسٹ کے ذریعے ثآبت نہیں کیا کہ یہ سسٹم امریکی سرزمین کی حفاظت کے لائق ہے۔

لاس اینجلس ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق 2004 میں کئے گئے 9 مصنوعی حملے کئے گئے، جن میں سے 6 بار انٹر سیپٹرناکام ہوئے۔  جبکہ  مصنوعی حملے اصلی حملوں سے کم خطرناک اور آسان تھے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سالوں کی ایڈجسٹمنٹ اور سسٹم کو ٹھیک کرنے کی قسنمیں کھانے کے باوجود اس میں کوئی بہتری نہیں آئی، بلکہ یہ مزید بدتر ہو گیا ہے۔

متعلقہ سائنسدانوں کی جماعت کے حساب کے مطابق اگر امریکا کی طرف 5 نیوکلئیر میزائل داغے گئے تو ہر انٹرسیپٹ کے پاس اپنے ٹارگٹ کو گرانے کے 50 فیصد چانسس ہونگے، جبکہ 28 فیصد چانس ہے کہ ان میں سے ایک نیوکلئیر میزائل بچ کر لازمی اپنے ہدف کو نشانہ بنائے گا۔

بشکریہ NBC News

View Source

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں