31

’منفی کمیت‘ والا سیال تخلیق کر لیا گیا-بی بی سی


تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library
Image caption اس عمل کے مطالعے سے کئی کائناتی عوامل کو سمجھنے میں مدد ملے گی

ماہرینِ طبیعیات نے ایک ایسا سیال تخلیق کیا ہے جس کی کمیت منفی ہے اور جب اسے دھکا دیا جائے تو وہ پیچھے کی بجائے آگے کی طرف حرکت کرتا ہے۔

عام حالات میں جب کسی مادے پر قوت لگائی جائے تو وہ اسی سمت حرکت کرتا ہے جس طرف قوت لگائی جاتی ہے۔ اس حرکت کی مقدار نیوٹن کے دوسرے قانونِ حرکت کے تحت معلوم کی جا سکتی ہے۔

تاہم نظریاتی طور پر مادے کی اسی طرح سے منفی کمیت ہو سکتی ہے جیسے الیکٹرک چارج منفی یا مثبت ہوتا ہے۔

یہ تحقیق فزیکل ریویو لیٹرز نامی سائنسی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔

واشنگٹن سٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر پیٹر اینگلز اور ان کے ساتھیوں نے روبیڈیم نامی عنصر کو منفی 273 درجے تک ٹھنڈا کیا۔ اس طرح سے مادے کی وہ شکل وجود میں آ گئی جسے ’بوز آئن سٹائن آمیزہ‘ کہتے ہیں۔

اس حالت میں ذرات بےحد سست روی سے حرکت کرتے ہوئے کوانٹم مکینکس کے اصولوں کے تحت لہروں کی طرح عمل کرتے ہیں اور ان لہروں کی حرکت میں توانائی بالکل ضائع نہیں ہوتی۔

سائنس دانوں نے منفی کمیت والا مادہ حاصل کرنے کے لیے لیزر کی مدد سے روبیڈیم کے ایٹموں کو قابو کرتے ہوئے ان کی گردش کی سمت اور رفتار تبدیل کر دی۔

جب ان ایٹموں کو لیزر کی گرفت سے رہا کیا گیا تو ان میں سے بعض نے منفی کمیت والے مادے کی طرح عمل شروع کر دیا۔

واشنگٹن سٹیٹ یونیورسٹی کے تحقیق کار پروفیسر مائیکل فوربز نے کہا: 'آپ اگر منفی کمیت والے مادے کو دھکا دیں تو وہ (پیچھے جانے کی بجائے) آپ کی طرف آئے گا۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ ایٹم کسی غیر مرئی دیوار سے ٹکرا رہے ہیں۔'

اس تحقیق سے سائنس دانوں کو نیوٹران سٹار، بلیک ہول اور ڈارک اینرجی جیسے عوامل کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔

View Source

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں