14

99 ممالک غیرمعمولی سائبر حملے کی زد میں-بی بی سی


تصویر کے کاپی رائٹ WEBROOT

یورپ کی پولیس ایجنسی کا کہنا ہے کہ غیر معمولی پیمانے پر سائبر حملے نے دنیا کے مختلف اداروں کو نشانہ بنایا ہے جس میں برطانوی ادارہ نیشنل ہیلتھ سروس بھی شامل ہے۔

یوروپول نے کہا ہے کہ اس سائبر حملے کے ذمہ داران تک پہنچنے کے لیے پیچیدہ بین الاقوامی تحقیقات کی ضرورت ہے۔

ایمنسٹی اور بی بی سی سمیت بڑے ٹوئٹر اکاؤنٹس ہیک

ہیکنگ کے ذریعے تاوان کے بڑھتے واقعات، ماہرین کا انتباہ

امریکہ، برطانیہ، چین، روس، سپین، اٹلی اور تائیوان سمیت 99 ملکوں میں رینسم ویئر کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

رینسم ویئر وہ کمپیوٹر وائرس ہوتا ہے جس کی مدد سے وائرس کمپیوٹر یا فائلیں لاک کر دیتا ہے اور اسے کھولنے کا معاوضہ مانگا جاتا ہے۔

اگرچہ اس کا پھیلاؤ اب کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے تاہم اس کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔

یوروپول نے کہا ہے کہ اس کی EC3نامی ٹیم متاثرہ ممالک میں موجود ایسی ہی ٹیموں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ خطرے کو کم کیا جا سکے اور متاثرین کی مدد کی جائے۔

سائبر سکیورٹی کے ماہرین ان واقعات کو ایک مشترکہ حملے کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ ایک ماہر نے ٹویٹ کیا کہ انھوں نے ہزاروں کمپیوٹروں میں وانا کرائی (WannaCry) نامی رینسم ویئر دیکھا ہے۔

اینٹی وائرس سافٹ ویئر ایواسٹ کے جیکب کروسٹیک نے کہا: 'یہ بہت بڑا (حملہ) ہے۔'

بعض ماہرین کے مطابق اس کمپیوٹر انفیکشن کا تعلق ایک ہیکر گروپ 'دی شیڈو بروکرز' سے ہے جس نے حال ہی میں امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی سے ہیکنگ ٹولز چرا کر نشر کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

مائیکروسافٹ کمپنی نے گذشتہ مارچ میں اسی قسم کے حملے سے بچنے کے لیے ایک پیچ جاری کیا تھا لیکن بہت سے کمپیوٹروں میں یہ انسٹال نہیں ہو سکا۔

بعض سکیورٹی ماہرین نے توجہ دلائی ہے کہ یہ انفیکشن ورم نامی ایک پروگرام کی مدد سے پھیلائے گئے ہیں جو کمپیوٹروں کے درمیان از خود منتقل ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ یورپ کے کئی اور ادارے بھی زد میں آئے ہیں۔ ٹیلی کام کمپنی ٹیلی فونیکا نے ایک بیان میں کہا کہ اسے سائبر حملوں کے واقعات کا پتہ چلا ہے لیکن اس سے اس کے گاہک اور سروسز متاثر نہیں ہوں گے۔

بجلی فراہم کرنے والی کمپنی آئبرڈرولا اور گیس نیچرل بھی متاثرین کی فہرست میں شامل ہیں۔

اطلاعات کے مطابق کمپنیوں کے عملے کو کہا گیا تھا کہ وہ اپنے کمپیوٹر بند کر دیں۔ وانا کرائی کے پیغامات کے سکرین شاٹس ویب پر گردش کر رہے ہیں۔

بعض دوسری تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ اٹلی میں ایک یونیورسٹی کے کمپیوٹر اسی پروگرام نے لاک کر دیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کہا جا رہا ہے کہ اس رینسم ویئر سے منسلک بِٹ کوئن کے بٹوے رقم سے بھرنا شروع ہو گئے ہیں۔

دوسرے متاثرہ اداروں میں کوریئر کمپنی فیڈ ایکس اور پرتگال ٹیلی کام شامل ہیں۔

سکیورٹی انجینیئر کیون بومونٹ نے کہا: 'یہ ایک بڑا حملہ ہے جس سے یورپ بھر کے ادارے اس پیمانے پر متاثر ہوئے ہیں جو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔'

ایک اور سائبر سکیورٹی ادارے چیک پوائنٹ کے مطابق یہ رینسم ویئر نیا ہے۔ ادارے کے آتیش پتنی نے کہا: 'اس کے باوجود یہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔'

View Source

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں