13

’جن کا ڈان لیکس میں ذکر تھا وہ اب تک متحرک ہیں‘-بی بی سی


تصویر کے کاپی رائٹ AAMIR QURESHI
Image caption میجر جنرل آصف غفور ڈائریکٹر جنرل انٹر سروس پبلک ریلشنز نے فوج کی جانب سے ٹویٹ واپس لیے جانے کے بارے میں ایک پریس کانفرنس میں میڈیا کو بریفنگ دی

سوشلستان میں ڈان لیکس کا ڈراپ سین ہو گیا اور فوج کے سربراہ کی ہر حرکت پر آمنا و صدقنا کہنے والوں کی حالت دیدنی ہے۔ روایتی میڈیا کی طرح سوشل میڈیا پر بھی تبصروں، تجزیوں اور تنقید کی بھرمار ہے تو اسی کا جائزہ پیش ہے اس ہفتے کے سوشلستان میں۔

'آخر کیوں دونوں جانب سے اس معاملے کو اتنا لٹکائے رکھا گیا؟'

ڈان لیکس نے پاکستانی سیاست میں موجود صف بندی کو جیسے بدل کر رکھ دیا،اور سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ مایوس ان سیاسی جماعتوں کے کارکن نظر آئے جنہیں فوج کی ٹویٹ کے بعد فلم کے مزید چلنے کی امید تھی۔

سید طلعت حسین نے لکھا 'جو کھم کھلا کہہ رہے تھے کہ ڈان کی خبر فوج کی تذلیل کرنے کے لیے شائع کی گئی تھی گذشہ رات سے وہ سارے لوگ کھلم کھلا اسی فوج کے خلاف بیہودہ اور نفرت انگیز مہم چلا رہے ہیں۔'

انھوں نے مزید سوال کیا کہ 'آخر کیوں دونوں جانب سے اس معاملے کو اتنا لٹکائے رکھا گیا؟'

اس فیصلے کے بعد سے فوج اور خصوصاً اس کے سربراہ کے خلاف سوشل میڈیا پر کافی کمنٹس نظر آئے جن میں فوج کے سرگرم حامی اکاؤنٹس بھی ہیں۔

جیسا کہ پاکستان ڈیفنس نامی ٹوئٹر اکاؤنٹ نے ٹویٹ کی کہ 'یہ نہ تسلیم کرنا ابن الوقتی ہو گی کہ ڈان لیکس پر معاملات طے پانے کے بعد فوج کے بارے میں رائے بہت بگڑ گئی ہے۔'

پی ٹی آئی کے اسد عمر نے لکھا 'میں پہلے دن سے کہتا آیا ہوں کہ ڈان لیکس صرف فوج کا معاملہ نہیں ہے۔ اگر یہ قومی سکیورٹی کے خلاف تھی تو کیوں طارق فاطمی کو ہٹایا گیا اور پرویز رشید کو سزا دی گئی؟'

ڈاکٹر شیریں مزاری نے ان ٹویٹس سے اتفاق کرتے ہوئے سوال کیا کہ 'کیا یہ سب قومی سلامتی کی قیمت پر مریم نواز شریف کو بچانے کے لیے تھا؟'

مگر سب جانب سے تنقید نہیں ہوئی بلکہ عاصمہ جہانگیر نے لکھا 'بہت دانشمندانہ فیصلہ ہے تناؤ ختم کرنے کا۔ بہت مثبت بات ہے کہ فوج اور سویلین حل کی جانب قدم بڑھا رہے ہیں۔'

رضا رومی نے لکھا کہ 'پاکستانی فوج کی تعریف کی جانے چاہیے اُن پر تنقید نہیں کہ انھوں نے جمہوریت اور آئین کی حمایت کی۔'

اس کے علاوہ جبران ناصر نے لکھا 'حکومت، فوج اور میڈیا ٹویٹس پر پھنسے ہوئے ہیں اور دہشت گرد جن کا ڈان لیکس میں ذکر تھا وہ اب تک متحرک ہیں۔ ہمیں تفریح چاہیے ترقی نہیں۔'

عمران خان کی جانب ہی اشارہ کرتے ہوئے طلعت حسین نے لکھا 'پہلی بار نہیں کہ عمران خان، نواز شریف کے خاتمے کی امید امپائر کے ذریعے کر رہے ہیں۔ اور ایسا پہلی بار نہیں ہوا انہیں اس میں ناکامی ہوئی۔'

'سمارٹ فون پانچ منٹ میں چارج کریں'

ایسا سمارٹ فون جو پانچ منٹ میں چارج ہو سکے گا اگلے سال تک دستیاب ہو سکے گا۔

یہ دعویٰ اسرائیل کی ایک کمپنی نے کیا ہے جبکہ اسی کمپنی نے برلن میں گذشتہ دنوں ایک ایسی کار بیٹری کی نمائش کی جو پانچ منٹ میں چارج ہو سکے گی اور تین سو میل تک چلنے کی طاقت فراہم کرے گی۔

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption معروف رقاصہ نگہت چوہدری 28 اپریل کو عالمی یومِ رقص کے موقع پر اپنے فن کا مظاہرہ کر رہی ہیں
تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شبِ برات کے موقع پر ایک خاتون دریائے راوی میں دیے جلا کر چھوڑ رہی ہے
View Source

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں