9

پہلے انڈیا یہاں آ کر کھیلے پھر ہم جائیں گے: نجم سیٹھی-بی بی سی


نجم سیٹھیتصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کرکٹ بورڈ کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی ہوم سیریز انڈیا میں کھیلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

نجم سیٹھی نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی پالیسی ہے کہ پاکستان انڈیا کے ساتھ انڈیا میں اس وقت تک نہیں کھیل سکتا جب تک انڈیا 2014 کی مفاہمت کی یادداشت کے تحت پاکستان میں یا کسی تیسرے ملک میں نہیں کھیل لیتا اور اس بات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔

٭ انڈین کرکٹ بورڈ کو نوٹس: ’ہمارا کیس خاصا مضبوط ہے‘

٭ ’پاک بھارت دو طرفہ سیریز کا کوئی امکان نہیں‘

یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین شہریارخان نے جمعرات کو کراچی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم مالی نقصان پورا کرنے کےلیے اپنی ہوم سیریز انڈیا جا کر کھیلنے کے لیے بھی تیار ہے۔

شہریارخان کا یہ بیان خود پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے حیران کن تھا جبکہ دوسری جانب انڈین ذرائع ابلاغ میں بھی اس کا شدید ردعمل سامنے آیا اور ان پر سخت تنقید کی گئی کہ ایک جانب تو پاکستان کرکٹ بورڈ نے بی سی سی آئی کو نوٹس بھیج رکھا ہے اور دوسری جانب اس کے چیئرمین انڈیا میں کھیلنے کی بات کر رہے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے بی سی سی آئی کو جو نوٹس بھیجا ہے اس کا اگرچہ بی سی سی آئی نے باضابطہ جواب نہیں دیا ہے تاہم ذرائع ابلاغ کے مطابق بی سی سی آئی نے اس نوٹس کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ بی سی سی آئی نے پاکستان کے ساتھ کھیلنے کا باضابطہ معاہدہ نہیں کیا تھا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ یہ ایک باقاعدہ معاہدہ ہے جس کا علم آئی سی سی کو بھی ہے۔

انڈیا کی جانب سے 2014 کی مفاہمت کی یادداشت پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے اب تک ایک سیریز متاثر ہو چکی ہے جو نومبر 2015 میں پاکستان میں کھیلی جانی تھی جبکہ اس سال نومبر میں انڈیا میں ہونے والی سیریز کا بھی کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔

View Source

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں